Monday, 17 January 2022

وہ شامل خواب میں میرے وہی ہے اب خیالوں میں

 وہ شامل خواب میں میرے، وہی ہے اب خیالوں میں

جوابوں میں فقط وہ ہے، وہی وہ ہے سوالوں میں

سیاہ تاریک راتیں بھی چمک اٹھیں وہ جب آئے

بدل دے چاند سا چہرہ اندھیروں کو اجالوں میں

بیانِ رنگ و بو کے واسطے اب گل نہیں آتے

وہی تشبیہ، کنایہ وہ، وہی ہے اب مثالوں میں

وہ ترچھی آنکھ ایسی ہے کہ دو دھاری کوئی خنجر

صفت واللہ نہیں ایسی جہاں بھر کی غزالوں میں

ہم اس کوچے نہیں آتے، جہاں دھتکارکھائی ہو

ضیاعِ وقت ہے جاناں معافی اور ازالوں میں

کسی کھاتے میں جو مجھ کو نہیں لاتے، وہ دیکھیں گے

مرے کردار کا شہرہ مضامیں میں، مقالوں میں

ابھی تم خاکساری کو مِری سمجھے نہیں دائم

مِرا تم نام دیکھو گے محبت کے حوالوں میں


ندیم دائم

No comments:

Post a Comment