منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہیۓ
رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہیۓ
اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہیۓ
سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک
ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہیۓ
تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں
دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہیۓ
پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا
ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہیۓ
وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے
اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہیۓ
پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے
گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہیۓ
شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر
سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہیۓ
بشریٰ اعجاز
No comments:
Post a Comment