Sunday, 16 January 2022

منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہیے

 منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہیۓ

رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہیۓ

اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر

منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہیۓ

سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک

ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہیۓ

تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں

دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہیۓ

پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا

ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہیۓ

وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے

اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہیۓ

پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے

گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہیۓ

شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر

سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہیۓ


بشریٰ اعجاز

No comments:

Post a Comment