زندگی کا کھیل
کھیل تو نرالے سب
زندگی دکھاتی ہے
پہلے خو د ہنساتی ہے
خود ہی پھر رُلاتی ہے
سوچتی ہوں یہ جیون
خواب ہے حقیقت ہے
رنج ہے کہ راحت ہے
ہجر ہے رفاقت ہے
کچھ سمجھ نہیں آتا
دل میں ایک الجھن ہے
غم سے جس کا بندھن ہے
شوق کا یہ درپن ہے
ہمسفر ملا تھا جو
ہمنوا نہیں تھا وہ
ہمنوا ملا تھا جو
ہمسفر نہ بن پایا
مہ جبیں غزل انصاری
No comments:
Post a Comment