Friday, 4 March 2022

بڑی حیرت سے ارباب وفا کو دیکھتا ہوں

 بڑی حیرت سے اربابِ وفا کو دیکھتا ہوں

خطا کو دیکھتا ہوں اور سزا کو دیکھتا ہوں

ابھی کچھ دیر ہے شاید میرے مایوس ہونے میں

ابھی کچھ دن فریبِ وفا رہنما کو دیکھتا ہوں

خدا معلوم دل کو جستجو ہے کن جزیروں کی

نہ جانے کن ستاروں کی ضیا کو دیکھتا ہوں

یہ کیا غم ہے مِرے اشعار کو نم کر دیا جس نے

یہ دل میں کس سمندر کی گھٹا کو دیکھتا ہوں

ضمیر اک قیدِ نا محسوس کو محسوس کرتا ہے

کسی نا دیدنی زنجیرِ پا کو دیکھتا ہوں


ضمیر جعفری

No comments:

Post a Comment