دل ہے آتش کدۂ غم میں پگھلنے کے لیے
شمع پیدا ہوئی کس واسطے جلنے کے لیے
اس نے دل مانگا تو میں نے کہا اے جانِ کرم
دل گیا ہے تیرے کوچے میں ٹہلنے کے لیے
جلوۂ حُور جبیں اس پہ جوانی کا غرور
ان کو جنت کی زمیں چاہیے چلنے کے لیے
اللہ، اللہ، رُخِ یار کے جلووں کی بہار
چاند شرماتا ہے بدلی سے نکلنے کے لیے
ان سے بچ کر رہوں مرقد میں مگر اے نازاں
پگڑیاں چاہییں گھر اپنا بدلنے کے لیے
نازاں شولا پوری
No comments:
Post a Comment