Wednesday, 4 October 2023

دل ہے آتش کدۂ غم میں پگھلنے کے لیے

 دل ہے آتش کدۂ غم میں پگھلنے کے لیے

شمع پیدا ہوئی کس واسطے جلنے کے لیے

اس نے دل مانگا تو میں نے کہا اے جانِ کرم

دل گیا ہے تیرے کوچے میں ٹہلنے کے لیے

جلوۂ حُور جبیں اس پہ جوانی کا غرور

ان کو جنت کی زمیں چاہیے چلنے کے لیے

اللہ، اللہ، رُخِ یار کے جلووں کی بہار

چاند شرماتا ہے بدلی سے نکلنے کے لیے

ان سے بچ کر رہوں مرقد میں مگر اے نازاں

پگڑیاں چاہییں گھر اپنا بدلنے کے لیے


نازاں شولا پوری

No comments:

Post a Comment