ہر بار مجھے زخمِ جدائی نہ دیا کر
اگر تُو نہیں میرا تو دکھائی نہ دیا کر
سچ جھوٹ تیری آنکھ سے ہو جاتا ہے ظاہر
قسمیں نہ اٹھا، اتنی صفائی نہ دیا کر
معلوم ہے رہتا ہے تو اب مجھ سے گریزاں
پاس آ کے محبت کی دوھائی نہ دیا کر
اُڑ جائیں تو پھر لوٹ کے آتے نہیں واپس
ہر بار پرندوں کو رہائی نہ دیا کر
لبنیٰ کنول
No comments:
Post a Comment