Tuesday, 19 April 2022

مجھے کیسے یقین آئے محبت تم نے بھی کی ہے

 مجھے کیسے یقین آئے


مجھے کیسے یقین آئے

محبت تم نے بھی کی ہے

تمہیں جب بھی کبھی دیکھا 

سدا خوش باش ہی پایا

ہمیشہ ہنستے رہتے ہو 

کبھی روتے نہیں پایا

کبھی غمگین نہیں دیکھا 

ہمیشہ مست رہتے ہو

محبت کرنے والوں پر 

کبھی مستی نہیں چھاتی

کبھی رونق نہیں آتی 

نہ وہ سر سبز ہوتے ہیں

محبت کرنے والے دل 

ہمیشہ زرد ہوتے ہیں

تو پھر کیسے یقین کر لوں 

محبت تم نے بھی کی ہے


لبنیٰ کنول

No comments:

Post a Comment