Monday, 19 December 2016

آتش چنار کے نام چنار قطار در قطار سلگتے رہے

آتشِ چنار کے نام

ہم کاکل و لب کے قصیدے لکھتے رہے
چنار قطار در قطار سلگتے رہے
چشمِ فلک نے کب یہ دیکھا تھا
برف خانوں میں آگ لگتے ہوئے
کھلے سر بیبیوں کو بلکتے ہوئے
اور
ہم بے حسی کی بکل مارے ہوئے
توشہ دانوں میں پھول رکھتے رہے

انور جمال فاروقی

No comments:

Post a Comment