اب تو بس ایک کام شہر میں ہے
طے شدہ قتلِ عام شہر میں ہے
بہہ رہا ہے گلی گلی میں لہو
بے خطا انتقام شہر میں ہے
بند بازار ہے محبت کا
اٹھ رہے ہیں گلی گلی تابوت
بس یہی صبح شام شہر میں ہے
دیکھیۓ تو سنِ شہادت کو
کس قدر بے لگام شہر میں ہے
کل جو شامل تھا پُرسا داروں میں
اب شہیدوں میں نام شہر میں ہے
ابر بارود کا برستا ہے
سانس لینا حرام شہر میں ہے
پانی مہنگا ہے خون سستا ہے
پھر بھی زندہ عوام شہر میں ہے
دل ہی ریحان اب جلا ڈالو
اک اندھیرا تمام شہر میں ہے
ریحان اعظمی
No comments:
Post a Comment