Friday, 4 September 2020

میں کہ مے خانہ الفت کا پرانا مے خوار

عشرتِ تنہائی

میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوار
محفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار
ماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکار
نغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں
کتنے دلکش مِرے بت خانۂ ایماں کے صنم
وہ کلیساؤں کے آہو وہ غزالان حرم
میں ہمہ شوق و محبت وہ ہمہ لطف و کرم
مرکز مرحمت محفل خوباں ہوں میں
موجزن ہے مئے عشرت مِرے پیمانوں میں
یاس کا درد ہے کم تر مِرے افسانوں میں
کامرانی ہے پرافشاں مِرے رومانوں میں
یاس کی سعئ جنوں خیز پہ خنداں ہوں میں
میرے افکار میں مہتاب کی طلعت غلطاں
میری گفتار میں ہے صبح کی نزہت غلطاں
میرے اشعار میں ہے پھولوں کی نکہت غلطاں
روح گلزار ہوں میں جان گلستاں ہوں میں
لاکھ مجبور ہوں میں ذوق خود آرائی سے
دل ہے بے زار اب اس عشرتِ تنہائی سے
آنکھ مجبور نہیں ہے مِری بینائی سے
محرمِ درد و غمِ عالمِ انساں ہوں میں
کیوں نہ چاہوں کہ ہر اک ہاتھ میں پیمانہ ہو
یاس و محرومی و مجبوری اک افسانہ ہو
عام اب فیض مے و ساقی و مے خانہ ہو
رِند ہوں اور جگر گوشۂ رِنداں ہوں میں
اب یہ ارماں کہ بدل جاۓ جہاں کا دستور
ایک اک آنکھ میں ہو عیش و فراغت کا سرور
ایک اک جسم پہ ہو اطلس و کمخواب و سمور
اب یہ بات اور ہے خود چاک گریباں ہوں میں

اسرارالحق مجاز
(مجاز لکھنوی)

No comments:

Post a Comment