عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
باندھ کر سر پر کفن رن میں بہتّر آ گئے
راہ جنت کی دکھانے یعنی رہبر آ گئے
یہ بھی کیا انصاف تھا دشتِ بلا تو ہی بتا
ایک پیاسے کے لیے کتنے ستمگر آ گئے
جب کوئی باقی بچا نہ لشکرِ شبیر میں
دفن کرنا تھا سکینہ کو اندھیری قبر میں
ہتھکڑی پہنے ہوئے سجادِ مضطر آ گئے
نوحہ خوانی کر رہا تھا خلد میں ریحان میں
ماتمی دستہ لیے سلمان و بو ذر آ گئے
ریحان اعظمی
No comments:
Post a Comment