Saturday, 5 September 2020

باندھ کر سر پر کفن رن میں بہتر آ گئے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

باندھ کر سر پر کفن رن میں بہتّر آ گئے
راہ جنت کی دکھانے یعنی رہبر آ گئے
یہ بھی کیا انصاف تھا دشتِ بلا تو ہی بتا
ایک پیاسے کے لیے کتنے ستمگر آ گئے
جب کوئی باقی بچا نہ لشکرِ شبیر میں
چھوڑ کر جھولے کو اپنے رن میں اصغر آ گئے
دفن کرنا تھا سکینہ کو اندھیری قبر میں
ہتھکڑی پہنے ہوئے سجادِ مضطر آ گئے
نوحہ خوانی کر رہا تھا خلد میں ریحان میں
ماتمی دستہ لیے سلمان و بو ذر آ گئے

ریحان اعظمی

No comments:

Post a Comment