منقبت بر حضرت عباس علمبردار
جب قلم لکھنے لگا حضرتِ عباس کا نام
پھول بن بن کے کھلا حضرتِ عباس کا نام
جب بھی آلودہ فضاؤں میں کھلے ان کا علم
پاک کرتا ہے فضا حضرتِ عباس کا نام
یوں لگا گھر میں میرے چاند اتر آیا ہے
تھی کڑی دھوپ مجھ پہ گھنا سایا تھا
بس میرے ذہین میں تھا حضرتِ عباس کا نام
مشکلیں آ کے میرے پاس پڑی مشکل میں
ان کو بھی لینا پڑا حضرتِ عباس کا نام
نام عباس کا "عباس" نہیں ہوتا، اگر
بالیقین ہوتا "وفا" حضرتِ عباس کا نام
مجھ کو ریحان میری ماں نے سکھائی ہے یہ بات
بس وظیفہ ہو تیرا حضرتِ عباس کا نام
ریحان اعظمی
No comments:
Post a Comment