Sunday, 1 August 2021

دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا

 دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا​

دو گھڑی مل بیٹھنے کا سلسلہ اچھا لگا​

کوئی خوبی تو نہ تھی مجھ میں کہ چاہا جاؤں میں​

پھر نجانے کیوں اسے چہرہ مِرا اچھا لگا​

رات ساری جاگنے کے بعد مجھ کو صبحدم​

نیم باز آنکھوں سے اس کا دیکھنا اچھا لگا

​بات میری اور مخاطب اس کا ہونا غیر سے​

اس کا یہ طرزِ تکلم بھی بڑا اچھا لگا

سر مِرے سینے پہ رکھ کے اس نے شرماتے ہوئے​

ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کیا، اچھا لگا​

اپنے چہرے پر جو دیکھے اسکے ہونٹوں کے نقوش​

مدتوں کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا​

عمر بھر جاگے مگر ریحان اس شب کی قسم​

ساتھ ان کو بھی جگا کر جاگنا اچھا لگا


ریحان اعظمی

No comments:

Post a Comment