Saturday, 5 November 2022

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

 جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

قابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق

کیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوق

بلبل بے تاب کو ہرزہ سرائی کا عشق

پڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھا

واعظ نا فہم کو ہرزہ سرائی کا عشق

کرتا ہوں جو بار بار بوسۂ رخ کا سوال

حسن کے صدقے سے ہے مجھ کو گدائی کا عشق

تم کو خدا نے دیا ساری خدائی کا حسن

مجھ کو عطا کر دیا ساری خدائی کا عشق

عاشق و معشوق کی ہائے نبھے کس طرح

ان کو کدورت کا شوق مجھ کو صفائی کا عشق

پوچھ لے پرویں سے یا قیس سے دریافت کر

شہر میں مشہور ہے تیرے فدائی کا عشق

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

کسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا

برا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھا

ہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا

صدا سنتے ہی گویا مُردنی سی چھا گئی مجھ پر

یہ شور صُور تھا یا وصل کا انکار تھا کیا تھا

خدا کا دوست ہے تعمیر دل جو شخص کرتا ہو

خلیل اللہ بھی کعبہ کا اک معمار تھا کیا تھا

نہ آئے تم نہ آؤ میں نے کیا کچھ منتیں کی تھیں

تمہیں نے خود کیا تھا عہد یہ اقرار تھا کیا تھا

ہوا میں جب اڑا پردہ تو اک بجلی سی کوندی تھی

خدا جانے تمہارا پرتوِ رخسار تھا، کیا تھا

ملا تو ہم سے محفل میں جو شب کو غیر کیوں بگڑا

تِرا حاکم تھا ٹھیکادار تھا مختار تھا کیا تھا

مِری میت پہ ماتم کرتے ہو اللہ رے چالاکی

خبر ہے خود تمہیں مدت سے میں بیمار تھا کیا تھا

ہزاروں حسرتیں بے تاب تھیں باہر نکلنے کو

وہ سوتے میں بھی پرویں فتنۂ بیدار تھا کیا تھا


پروین ام مشتاق

No comments:

Post a Comment