Saturday, 5 November 2022

تمہیں درختوں پہ نام لکھنے ہیں دل بنانے ہیں دیکھ لینا

 تمہیں درختوں پہ نام لکھنے ہیں دل بنانے ہیں دیکھ لینا

یہ پیڑ یادوں کے صرف ایندھن کے کام آنے ہیں دیکھ لینا

تمہیں کہا تھا نا دیکھ لینا یہ ضبط پھر سے نہ ٹوٹ جائے

یہ اشک مٹی میں رُل نہ جائیں پرائے شانے ہیں دیکھ لینا

جو دل کیاری میں تم نے بویا تھا، درد پل کر شجر ہوا ہے

جو شاخِ گِریہ پہ پھول آئے ہیں، بس دکھانے ہیں دیکھ لینا

اگر اداسی، ملال و وحشت کے ساتھ تم بھی نبھا سکو تو

تمہاری مرضی ہے دل حویلی کے چار خانے ہیں دیکھ لینا

غرور پرور یہ سرد لہجہ ہے عشق دریا کو ہیچ صاحب

تجھ ایسے پتھر تو ایک لمحے میں ٹوٹ جانے ہیں دیکھ لینا

ہمارے بچوں سے کہنا دشمن ہماری قبروں سے ڈر گیا تھا

ہماری تُربت پہ آٹھ پشتوں نے گُل بچھانے ہیں دیکھ لینا


عاطف جاوید عاطف

No comments:

Post a Comment