عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اس خالق کونین کی مرضی بھی ادھر ہے
اے سید ابرارﷺ رضا تیری جدھر ہے
جنت کی ضرورت ہے نہ حوروں کی طلب ہے
کونین کے دولہاﷺ کی طرف میری نظر ہے
جس گھر میں قدم رکھتے تھے جبریل بھی ڈر کر
اے جانِ دو عالمﷺ وہ تمہارا ہی تو گھر ہے
وہ ربِ دو عالم ہے تو تُوؐ رحمت عالمﷺ
محشر کا خطر ہے نہ جہنم ہی کا ڈر ہے
جس در سے کوئی شاہ و گدا خالی نہ لوٹا
اے صاحب لولاکؐ تمہارا ہی وہ در ہے
آیا نہ جہاں میں کوئی ہمسر تِرا بن کر
پہنچا نہ وہاں کوئی جہاں تیرا گزر ہے
اعظم! کو بھی بلوائیے اے ساقئ کوثر
سجدے کو تڑپتا تِرے دیوانے کا سر ہے
اعظم چشتی
No comments:
Post a Comment