یاد یوں آئی اس کے آنچل کی
شاخ لہرائے جیسے صندل کی
تُو بھی رویا ہے یاد کر کے ہمیں
کہہ رہی ہے لکیر کاجل کی
تیری آنکھوں پہ آ کے ختم ہوا
ذکر قاتل کا، بات مقتل کی
پھول پر جیسے قطرۂ شبنم
اس بدن پر قمیض ململ کی
کتنا آرام دہ تھا اس کا بدن
جیسے چادر سفید مخمل کی
میرے نزدیک شعر کی تعریف
شام کے وقت کُوک کوئل کی
بزمِ شعر و سخن میں میرا وجود
دھوپ میں جیسے چھاؤں پیپل کی
تم نے سونا سمجھ کے پہن لیا
تھی انگوٹھی ندیم پیتل کی
مقسط ندیم
No comments:
Post a Comment