Thursday, 18 March 2021

ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں

 ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں

سفر کے استعارے دیکھتا ہوں

کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں

کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں

مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں

کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں

کہیں آنسو، کہیں پر سِسکیاں ہیں

دُکھوں کے سب شمارے دیکھتا ہوں

سُلگتی آگ ہے شدت کی دل میں

کئی اُٹھتے شرارے دیکھتا ہوں

چلے جاتے ہیں جاذب کیوں بچھڑ کر

دل و جاں سے بھی پیارے دیکھتا ہوں


سلیمان جاذب

No comments:

Post a Comment