Wednesday, 17 March 2021

تو نہیں جب سے ہمسفر میرا

 تو نہیں جب سے ہمسفر میرا

رہ گزر ہے نہ ہے شجر میرا

کون دے گا مجھے یہاں دستار

ہر کوئی چاہتا ہے سر میرا

تیرے جانے سے کچھ نہیں ہوتا

مجھ پہ ہونے لگا اثر میرا

ہر کوئی تھا سراب میں کھویا

دیکھتا کون واں ہُنر میرا

اجنبی شہر،۔ اجنبی گلیاں

کوئی دیوار ہے نہ در میرا

میں بھی جاذب عجب مسافر ہوں

ساتھ چلتا ہے میرے گھر میرا​


سلیمان جاذب

No comments:

Post a Comment