Saturday, 25 December 2021

سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں

 سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں

جو آنے والے تھے، وہ انقلاب آئے نہیں

یہ کیا حضر کہ سفر کی ضرورتیں ہی نہ ہوں

یہ کیا سفر کہ کہیں پر سراب آئے نہیں

وہ ایک نیند کی جو شرط تھی ادھوری رہی

ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب آئے نہیں

دعا کرو کہ خزاں میں ہی چند پھول کھلیں

کہ اب کے موسمِ گل میں گلاب آئے نہیں

مجھے تو آج کے کرب و بلا سے فرصت کب

تم ان کی چاپ سنو، جو عذاب آئے نہیں


راشد جمال فاروقی

No comments:

Post a Comment