سفر سے کس کو مفر ہے لیکن یہ کیا کہ بس ریگزار آئیں
کہیں کوئی سائبان بھی دے کہ گَردِ وحشت اتار آئیں
یہ خشک سالی کہ مُدتوں سے چمن میں آ کر پسر گئی ہے
کبھی تو نخلِ مراد جھومے، کہیں تو کچھ برگ و بار آئیں
زمیں کہ گلپوش بھی رہی اور فلک پہ قوسِ قزح بھی جھومی
مزے مزے کی وہ ساعتیں تھیں، چلو یہ دن بھی گزار آئیں
ادھر یہ دل ہے کہ، اس کو بس اک جنوں کی دھن ہے
ادھر ہمارا یہ عزمِ پیہم کہ، زُلفِ گیتی سنوار آئیں
یہ سن کے دیکھیں کہ کوئی اپنوں کو کیسے آخر پکارتا ہے
چلو کہ اپنا ہی نام راشد!! کسی کنویں میں پکار آئیں
راشد جمال فاروقی
No comments:
Post a Comment