دوست اکثر تو بلانے پہ بھی کم بولتے ہیں
اور جب بولنے لگ جائیں، بہم بولتے ہیں
راہ تو کوئی بھی خدشات سے محفوظ نہیں
اور وہ راہ، جسے راہِ عدم بولتے ہیں
درد نے سینے میں سر پھونک دیا ہے شاید
دوست کہتے ہیں کہ جب گاتا ہوں، غم بولتے ہیں
تاکہ اس چپ سے تو آزردہ نہ ہو جائے سو ہم
اپنی خاموش طبیعت کی قسم، بولتے ہیں
اپنی آواز ہی پلٹےجو بلانے پہ ہمیں
فرض کر لینا کہ اطراف سے ہم بولتے
رات در پیش ہے دشمن کے علاقے میں ہمیں
رک نہیں سکتے، چلیں گر تو، قدم بولتے ہیں
آسمانوں پہ سنا ہے کہ سنے جاتے ہیں
کسی مظلوم کے جب گریہ و نم بولتے ہیں
کس طرح اتنی کتابوں کے مصنف ہیں حضور
نظم کو آج تلک آپ نظم بولتے ہیں
جی بھی پائے نہ سہولت سےصداقت طاہر
آخری وقت ہے اور موت کے رم بولتے ہیں
صداقت طاہر
No comments:
Post a Comment