Sunday, 13 March 2022

پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا

 پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا

مایوسیوں کا زہر گلے میں اتر گیا

آنکھوں کو کیا چھلکنے سے روکا غضب ہوا

لگتا ہے سارا جسم ہی اشکوں سے بھر گیا

دیکھے تہہ چراغ گھنی ظلمتوں کے داغ

اور میں فزون کیف و مسرت سے ڈر گیا

تنہائیاں ہی شوق سے پھر ہم سفر ہوئیں

جب نشۂ جنون رفاقت اتر گیا

کوچے سے بھی جو اپنے گزرتا نہ تھا کبھی

کیا سوچ کر اٹھا تھا کہ جاں سے گزر گیا

معمولی ہے کہ صبح جلاتا ہوں خود کو میں

ہوتا یہ ہے کہ روز سر شام مر گیا

اب جس کو جو سمجھنا ہو سمجھا کرے تو کیا

راشد! تِرا سکوت عجب کام کر گیا


راشد جمال فاروقی

No comments:

Post a Comment