Sunday, 13 March 2022

محبت جس کو کہتے ہیں بڑی مشکل سے ہوتی ہے

 فلمی عشق


محبت جس کو کہتے ہیں بڑی مشکل سے ہوتی ہے

فقط اک بار ہوتی ہے خلوص دل سے ہوتی ہے

جہان فلم میں الفت کا ہر نخرا نرالا ہے

یہ ایسی دال ہے جس دال میں کالا ہی کالا ہے

اگر بازار میں لڑکی پھسل جائے محبت ہے

سہارہ پا کے لڑکے کا سنبھل جائے محبت ہے

کسی لڑکی کو ڈاکو سے چھڑا کر لاؤ الفت ہو

کسی کی سائیکل سے سائیکل ٹکراؤ الفت ہو

یہ فلمی عشق نے کیسا نیا پہلو نکالا ہے

پولس کپتان کی لڑکی کا عاشق رکشے والا ہے

مقدر کو کہیں سے ساز گاری ہی نہیں ملتی

وہی ملتی ہے اور کوئی سواری ہی نہیں ملتی

امیری پر غریبی کا وہ یوں سکہ جماتا ہے

کرایہ تک نہیں لیتا مگر چڈی کھلاتا ہے

سر بازار ہیرو سے جو ایکسیڈنٹ ہو جائے

تو اس کا عشق ایکسیڈنٹ سے ڈیسینٹ ہو جائے

بہ ظاہر دیکھنے میں صرف اک موٹر کی ٹکر ہے

کسی دل پھینک سے لیکن کسی دلبر کی ٹکر ہے

وہ ہیروئن کو موٹر میں شفا خانے بھی لائے گا

اور اس کے دل کو بہلانے کو گانا بھی سنائے گا

وہ گانا جس میں حال دل کی پوری ترجمانی ہو

مگر یہ شرط ہے بھرپور دونوں کی جوانی ہو

وہ پھر موٹر سے ٹکر کی شکایت بھول جائے گی

وہ زخم دل کے آگے ہر جراحت بھول جائے گی

جناب سیٹھ صاحب کی جو اک بے ماں کی بچی ہے

نہایت لاڈلی ہے عمر پختہ عقل کچی ہے

اور اس کو سیٹھ کے دفتر کے اک بابو سے الفت ہے

منیجر اور بابو کے لیے وجہ رقابت ہے

نتیجہ میں ولن ناشاد ہیرو شاد ہوتا ہے

ترقی پا کے بابو سیٹھ کا داماد ہوتا ہے

کبھی لڑکی پہ جو تنہا سفر کا سانحہ گزرے

تو چلتی ریل میں بھی عشق کا یہ حادثہ گزرے

کہ ہیرو ریل کے سنڈاس سے ڈبے میں آئے گا

اور اس کے بعد ہیروئن کو بس بے ہوش پائے گا

وہ اس کے سر کو پھر زانو پہ رکھ کر گال تھپکے گا

اور اس کی آنکھ سے اک عشق کا آنسو بھی ٹپکے گا

تو ہیروئن بھی بس گھبرا کے آنکھیں کھول ڈالے گی

یہ اس کا دل سنبھالے گا وہ اس کا دل سنبھالے گی

ہوں دو بہنیں بڑی کا ان میں اکلوتا منگیتر ہو

محبت سے بپا دونوں کے دل میں ایک محشر ہو

کہ چھوٹی کو بھی الفت اس سے ہو گی برملا ہو گی

وہ اپنے ہونے والے دولہا بھائی پہ فدا ہو گی

فراق یار میں گانے کا یہ انداز ہوتا ہے

وہ جنگل ہو کہ بستی ہو یقیناً ساز ہوتا ہے

غزل آدھی جو ہیرو نے کسی جنگل میں گائی ہے

اسی کی آدھی ہیروئن نے بستی میں سنائی ہے

جو سازندے، پیانو، وائلن طبلہ بجاتے ہیں

کبھی جنگل میں جاتے ہیں کبھی بستی میں آتے ہیں

یہ فلمی عشق ہے، لے دے کے بس اس کا یہ حاصل ہے

ہماری قوم کے بچوں کے حق میں زہر قاتل ہے

ظریفؔ انجام کیا ہوگا جو میرا دل بھی کھو جائے

کہیں ایسا نہ ہو، مجھ کو بھی فلمی عشق ہو جائے


ظریف جبلپوری

No comments:

Post a Comment