Sunday, 13 March 2022

وضع کا پاس کہاں تک کرتے ہم تو پھر دیوانے تھے

 وضع کا پاس کہاں تک کرتے، ہم تو پھر دیوانے تھے

ان سے بھی یاں نبھ نہ سکی جو عاقل تھے فرزانے تھے

آپ ہی یہ طے کرتے رہیئے کچھ تھا کہ نہ تھا کچھ ہے کہ نہیں

کٹ ہی گئی اپنی تو ان میں خواب تھے یا افسانے تھے

موجِ صبا سے اس نے چھیڑا بوئے گُل سے یاد کیا

ہم بدقسمت پھر بھی نہ سمجھے کہنے کو فرزانے تھے

اگلی پچھلی باتوں کا کیا ذکر ہے اب جانے دیجے

آپ کے در پر آ ہی پڑے ہم تھے جب تک بے گانے تھے

رات کو ان کی خلوت میں خود ان کے سوا کوئی بھی نہ تھا

صبح ہوئی تو سب کے لبوں پر میرے ہی افسانے تھے

مغروروں کو دیکھ کے ہم نے یہ سیکھا ہے اے میکش

جس سے ملے اس طرح ملے جیسے جانے پہچانے تھے


میکش اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment