ترا وجود ہی سب سے بڑی حقیقت ہے
تجھے بھلا نہیں سکتا، یہی محبت ہے
گلہ نہیں ہے تری بے تعلقی سے مجھے
میں جانتا ہوں تجھے بھولنے کی عادت ہے
دلِ حزیں کو بڑی دیر میں ہوا معلوم
مری طلب میں ہے ٹھنڈک گئے زمانوں کی
ترے لہو میں نئے موسموں کی حدت ہے
خود اپنی ذات کا جب تجزیہ کیا تو کھلا
ترے بغیر بھی جینے کی ایک صورت ہے
احمد مشتاق
No comments:
Post a Comment