Monday, 14 September 2020

دل کو یاد شام ہجر پھر اداس کر گئی

دل کو یادِ شامِ ہجر پھر اداس کر گئی
پھر چراغِ وصل سے روشنی اتر گئی
دیکھ اے فسردگی، زندگی عجیب ہے
خواہشِ بہار اگر مر گئی، تو مر گئی
ساری رات ایک خواب دیکھتا رہا ہوں میں
ایک ہی خیال میں زندگی گزر گئی
شوقِ بے کنار سے چشمِ ناصبور تک
روشنی تھی دور تک دور تک نظر گئی

احمد مشتاق

No comments:

Post a Comment