دل کو یادِ شامِ ہجر پھر اداس کر گئی
پھر چراغِ وصل سے روشنی اتر گئی
دیکھ اے فسردگی، زندگی عجیب ہے
خواہشِ بہار اگر مر گئی، تو مر گئی
ساری رات ایک خواب دیکھتا رہا ہوں میں
شوقِ بے کنار سے چشمِ ناصبور تک
روشنی تھی دور تک دور تک نظر گئی
احمد مشتاق
No comments:
Post a Comment