Thursday, 7 April 2016

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
اب جہاں دیوار ہے، پہلے وہاں دروازہ تھا
درد کی اک موج ہر خواہش بہا کر لے گئی
کیا ٹھہرتیں بستیاں، پانی ہی بے اندازہ تھا
رات ساری خواب کی گلیوں میں ہم چلتے رہے
کھڑکیاں روشن تھیں، لیکن بند ہر دروازہ تھا

احمد مشتاق

No comments:

Post a Comment