Thursday, 7 April 2016

تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے

تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
تم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے
میرِ محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
ہمیں محفل سے اٹھا دو تو مزا آ جائے 
تم نے احسان کِیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اب وہ احسان جتا دو تو مزا آ جائے
اپنے یوسفؑ کی زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
کچھ حسِینوں سے مِلا دو تو مزا آ جائے
چَین پڑتا ہی نہیں ہے تمہیں اب میرے بغیر
اب تمہی مجھ کو گنوا دو تو مزا آ جائے

 جون ایلیا

No comments:

Post a Comment