تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
تم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے
میرِ محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
ہمیں محفل سے اٹھا دو تو مزا آ جائے
تم نے احسان کِیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اپنے یوسفؑ کی زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
کچھ حسِینوں سے مِلا دو تو مزا آ جائے
چَین پڑتا ہی نہیں ہے تمہیں اب میرے بغیر
اب تمہی مجھ کو گنوا دو تو مزا آ جائے
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment