نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
ہمارے دل محلے کی گلی سے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
دریچوں سے تھا اپنے بَیر ہم کو
سو خود دِیمک لگائی جا رہی ہے
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment