Thursday, 7 April 2016

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے 
ہمارے دل محلے کی گلی سے
ہماری لاش لائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
دریچوں سے تھا اپنے بَیر ہم کو
سو خود دِیمک لگائی جا رہی ہے

 جون ایلیا

No comments:

Post a Comment