تمہارا ہجر منا لوں،۔ اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہے وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں،۔ اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے تار میں جاناں
جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
یہاں بھی شور مچا لوں، اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں، اگر اجازت ہو
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھال لوں، اگر اجازت ہو
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment