دور وہ حدِ نظر پر اک الاؤ دیکھنا
دشتِ ظلمت کے مسافر کا پڑاؤ دیکھنا
میں لبِ دریا کا ہوں وہ کھیت جس کو رات دن
اپنی آنکھوں سے پڑے اپنا کٹاؤ دیکھنا
اس طرف کھیتوں پہ چادر دھوپ کی پھیلی ہوئی
ہو کوئی رُت چھوڑ کر ان کو کہیں جاتے نہیں
کچھ پرندوں کا درختوں سے لگاؤ دیکھنا
اک ذرا سی دیر میں وہ بادباں کھلنے تو دے
یہ بھنور بھی پار کر جائے گی ناؤ دیکھنا
دیکھنا آنکھیں بہا کر لے نہ جائے ساتھ ہیں
چاندنی راتوں میں دریا کا بہاؤ دیکھنا
ٹیس اٹھتی ہے برابر، پر لہو رِستا نہیں
اس نظر نے اب کے بخشا ہے جو گھاؤ دیکھنا
ساحلوں پر فصل بونا اپنی مجبوری سہی
پھر بھی دریا پر نظر رکھنا، بہاؤ دیکھنا
آ چکے بکنے کو رزمی جب سرِ بازار تم
قدر و قیمت پوچھنا کیا، اپنا بھاؤ دیکھنا
خادم رزمی
No comments:
Post a Comment