جگر کو تھام کے میں بزمِ یار سے اٹھا
ہر اک قرار سے بیٹھا، قرار سے اٹھا
ہمارے دل نے وہ تنہا اٹھا لیا ظالم
تِرا ستم، جو نہ اک روزگار سے اٹھا
ہوا نہ پھر کہیں روشن، یہ رشک تو دیکھو
شبِ فراق اجل کی بہت دعا مانگی
جگر میں درد بڑے انتظار سے اٹھا
ہوا ہے خون کی چھینٹوں سے پیرہن گلزار
تِرے شہید کا لاشہ بہار سے اٹھا
ہمارے خط میں وو مضمونِِ سرگرانی تھا
کہ ایک حرف نہ اس گلغدار سے اٹھا
تمہارے جھوٹ نے بے اعتبار سب سے کیا
کہ جیسے ایک سے اٹھا، ہزار سے اٹھا
ان کی راہگزر میں لگاۓ سو چکر
جو گردباد ہماری غبار سے اٹھا
گِلہ رقیب کا سن کر جھکی رہی آنکھیں
حجاب کیا نِگہِ شرمسار سے اٹھا
ترس رہے تھے شرابی کہ انگلیاں اٹھیں
وہ ابر رحمتِ پروردگار سے اٹھا
کسی نے پاۓ حنائی جو ناز سے رکھا
بھڑک کے شعلہ ہمارے مزار سے اٹھا
رہی وہ حسرتِ دنیا کہ صبح محشر بھی
میں اپنے ہاتھوں کو ملتا مزار سے اٹھا
نہ چھوڑتا اگر ان کے قدم ، وہ کیوں جاتے
مگر نہ ہاتھ دلِ بے قرار سے اٹھا
وہ فتنہ، فتنہ ہے وہ حشر، حشر ہے یارب
جو بزمِ یار سے، جو کوۓ یار سے اٹھا
تم اپنے ہاتھ سے دو پھول غیر کو چن کر
یہ داغ کب دلِ امیدوار سے اٹھا
عدو کی بزم میں دیکھو تو داغ کے تیور
ذلیل ہو کے بڑے افتخار سے اٹھا
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment