Saturday, 5 September 2020

طور بے طور ہوئے جاتے ہیں

طور بے طور ہوئے جاتے ہیں
وہ تو کچھ اور ہوئے جاتے ہیں
یہ عنایت پہ عنایت ہے ستم
لطف بھی جور ہوئے جاتے ہیں
اب تو بیمارِ محبت تیرے
قابلِ غور ہوئے جاتے ہیں
نشہ ہوتا ہی نہیں اے ساقی
بے مزہ دور ہوئے جاتے ہیں
دیر ہے حکم کی ہم تم پہ فدا
ابھی فی الفور ہوئے جاتے ہیں
التجا بھی ہے شکایت گویا
وہ خفا اور ہوئے جاتے ہیں
انتہا کیا ہے کہ تجھ سے برپا
جور پر جور ہوئے جاتے ہیں
اہلِ کلکتہ سے لائق فائق
اہلِ لاہور ہوئے جاتے ہیں
گھڑیوں بڑھتا ہے حسینوں کا جمال
اور سے اور ہوئے جاتے ہیں
تیر پھینکو نہ فلک پر کہ شکار
اسد و ثور ہوئے جاتے ہیں
کچھ خبر بھی ہے محبت میں داغ
کیا تِرے طور ہوئے جاتے ہیں

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment