ایک سناٹے کی باہیں دور تک پھیلی ہوئی
پھر وہی چپ چاپ راہیں دور تک پھیلی ہوئی
دشتِ غربت میں تنہا اک ستارہ زخم زخم
اور ظلمت کی سپاہیں دور تک پھیلی ہوئی
کیا ہوئے کچھ تو بتا اے دھوپلی رُت! وہ شجر
کیسی کیسی بستیوں کی قربتوں کے خواب دیں
چار سُو یہ سبز راہیں، دور تک پھیلی ہوئی
پھر رہی ہیں ہر طرف کس گمشدہ کی کھوج میں
یہ مِری پارہ نگاہیں، دور تک پھیلی ہوئی
یہ ہوا میں زرد پتے، سسکیاں لیتے ہوئے
دیکھنا! اپنی کراہیں، دور تک پھیلی ہوئی
اک سخی بادل کا رستہ دیکھتی ہیں دیر تک
اک پیاسی رُت کی چاہیں دور تک پھیلی ہوئی
خادم رزمی
No comments:
Post a Comment