Friday, 4 September 2020

ایک سناٹے کی باہیں دور تک پھیلی ہوئی

ایک سناٹے کی باہیں دور تک پھیلی ہوئی
پھر وہی چپ چاپ راہیں دور تک پھیلی ہوئی
دشتِ غربت میں تنہا اک ستارہ زخم زخم
اور ظلمت کی سپاہیں دور تک پھیلی ہوئی
کیا ہوئے کچھ تو بتا اے دھوپلی رُت! وہ شجر
وہ سکوں پرور پناہیں، دور تک پھیلی ہوئی
کیسی کیسی بستیوں کی قربتوں کے خواب دیں
چار سُو یہ سبز راہیں، دور تک پھیلی ہوئی
پھر رہی ہیں ہر طرف کس گمشدہ کی کھوج میں
یہ مِری پارہ نگاہیں، دور تک پھیلی ہوئی
یہ ہوا میں زرد پتے، سسکیاں لیتے ہوئے
دیکھنا! اپنی کراہیں، دور تک پھیلی ہوئی
اک سخی بادل کا رستہ دیکھتی ہیں دیر تک
اک پیاسی رُت کی چاہیں دور تک پھیلی ہوئی

خادم رزمی

No comments:

Post a Comment