Monday, 7 September 2020

چاندنی چوپال میرا گاؤں گبھرو قہقہے

چاندنی، چوپال، میرا گاؤں، گبھرو، قہقہے
آنگنوں میں موتئیے سے لوگ، خوشبو قہقہے
دور تک پھیلے ہوئے سرسبز کھیتوں کا طلسم
سر پہ چڑھ کر بولتا محنت کا جادو، قہقہے
سبز چارہ، دھان، گندم، باجرہ، گنا، کپاس
یہ مِری بستی کی فصلیں ہیں کہ ہر سُو قہقہے
آبرو ہیں گاؤں کے پاکیزہ صبح و شام کی
محنتوں کی گود کے پروردہ باہو قہقہے
بچپنے کی یاد کیا منظر دکھاتی ہے مجھے
شام، سونا رت، کھلے چہرے، لبِ جو، قہقہے
شہر کی بے روح خوشیوں سے بھلے ہیں ہر کہیں
گاؤں کے بے لوث، بھولے بھالے سادھو قہقہے
سادگی، اخلاص، سچائی محبت، یاریاں
میٹھے میٹھے، اختلافاتِ من و تو قہقہے
پھول جسموں پر لیے سونا سحر کی اوڑھنی
چوکڑی بھرتے ہوئے کھیتوں میں آہو قہقہے
شہر میں آ کر بھی رزمی آج تک بھولے نہیں
گاؤں کی شادابیوں کے دست و بازو قہقہے

خادم رزمی

No comments:

Post a Comment