غیروں کی طرح خود سے جدا ہو گئے ہیں ہم
کس جرمِ جستجو کی سزا ہو گئے ہیں ہم
یوں بے نیاز سود و زیاں ہیں کہ جس طرح
اک قرضِ عمر تھے کہ ادا ہو گئے ہیں ہم
پھرتے ہیں زرد پتوں سی کچھ خواہشیں لیے
چہرے وہ کون تھے جو بچھڑ کر نہیں ملے
کیا صورتیں تھیں جن سے جدا ہو گئے ہیں ہم
عمریں گزر گئی ہیں اثر کی تلاش میں
کس نامراد لب کی دعا ہو گئے ہیں ہم
محصور ان دنوں ہیں خود اپنی ہی گونج میں
جیسے کسی کنویں کی صدا ہو گئے ہیں ہم
اب رو برو ہے جیسے کسی اجنبی کا عکس
اے آئینہ! بتا، نا یہ کیا ہو گئے ہیں ہم؟
رہنے لگے ہیں اپنے ہی سائے سے بدگماں
کس بے لحاظ رُت کی ادا ہو گئے ہیں ہم
کرتا ہے لَو کو تیز جو بجھنے سے پیشتر
لگتا ہے ایک ایسا دِیا ہو گئے ہیں ہم
خادم رزمی
No comments:
Post a Comment