Monday, 19 December 2016

چمکنے لگا ہے ترا غم بہت

چمکنے لگا ہے تِرا غم بہت
دِیے ہو چلے اب تو مدھم بہت
گھٹاؤں میں طوفاں کے آثار ہیں
تِری زلف ہے آج برہم بہت
یہاں لہلہائے ہیں اشکوں میں باغ
نہ اترائے پھولوں پہ شبنم بہت
یہ وہ دور ہے جس کا درماں نہیں
یہ وہ راز ہے جس کے محرم بہت
یہ دامانِ وحشت کی کچھ دھجیاں
بنائیں گے لوگ ان سے پرچم بہت
گدائے محبت کی خودداریاں
ملے راہ میں خسرو و جَم بہت
سلگتی رہی رات بھر چاندنی
شبِ ہجر تھی روشنی کم بہت
نہ جاۓ گی دل سے کبھی آرزو
یہ بنیاد ہے آہ، محکم بہت

نور بجنوری

No comments:

Post a Comment