مرگِ آزر (منٹو کی یاد میں)
مے کشو! بادۂ احمر کا چھلکتا ہوا جام
لبِ ساقی کے چناروں کی طرف لوٹ گیا
آہ، وہ انجمِ افتادہ سرِ جادۂ غم
ظلمتیں لے کے ستاروں کی طرف لوٹ گیا
خارزاروں پہ چھڑک کر دلِ سرکش کا لہو
مدھ بھری سانولی راتوں کے رسیلے سپنے
کس کے بے خواب شبستاں کے لیے مہکیں گے
جھلملاتے ہوئے معصوم گناہوں کے چراغ
کس کے افکار میں شعلوں کی طرح دہکیں گے
مرگِ آزر ہے خداوند! شکستِ تخلیق
روح جاگے گی کہاں، جسم کہاں چہکیں گے
نور بجنوری
No comments:
Post a Comment