Sunday, 1 January 2017

یہاں کسی نے چراغ وفا جلایا تھا

یہاں کسی نے چراغِ وفا جلایا تھا 
تبھی یہ غم کدۂ دل بھی جگمگایا تھا
جنوں کی شوخ اداؤں نے فاش کر ہی دیا
وہ ایک راز خِرد نے جسے چھپایا تھا
شبِ بہار کی شہ زادیو! خبر ہے تمہیں
ابھی ابھی کوئی ناشاد مسکرایا تھا
سلگ رہی ہیں امنگیں تو سوچتا ہوں میں
بہت ہی خشک تِری زلفوں کا نرم سایا تھا
یہ ماہتاب سے کس نے مجھے صدا دی تھی
یہ کون دور سے میرے قریب آیا تھا

نور بجنوری

No comments:

Post a Comment