سمت کچھ طے نہیں سفینے کا
فیصلہ کر لیا ہے جینے کا
لوگ پوچھیں گے کیا کہو گے پھر
اِک بہانہ تو ہو قرینے کا
بیدلی کا ہے دل سے وہ رشتہ
جو انگوٹھی سے اک نگینے کا
خاک پازیب بن گئی میری
اور کنگن سجا پسینے کا
لمحہ لمحہ گزار کر دیکھو
سال بنتا ہے اِک مہینے کا
عشق میں بھی بھرم ہی ہوتا ہے
ایک سینے کو ایک سینے کا
میں بلندی سے خوف کھاتا ہوں
راستہ کس طرف ہے زینے کا
ثاقب ہمراز
No comments:
Post a Comment