Thursday, 25 March 2021

زباں کو اپنی گنہ گار کرنے والا ہوں

 زباں کو اپنی گنہ گار کرنے والا ہوں

خموش رہ کے ہی اظہار کرنے والا ہوں

میں کرنے والا ہوں ہر خیر خواہ کو مایوس

ابھی میں جرم کا اقرار کرنے والا ہوں

چھپانی چاہیے جو بات مجھ کو دنیا سے

اسی کا آج میں اظہار کرنے والا ہوں

وہ جس کے بعد مجھے کچھ نہیں ڈرائے گا

وہ انکشاف سرِ دار کرنے والا ہوں

مچی ہے کھلبلی ایسی نظر کے آنگن میں

کہ جیسے میں تِرا دیدار کرنے والا ہوں

حیا کے رنگ سے گلزار ہو گیا چہرہ

پتہ ہے اس کو کہ میں پیار کرنے والا ہوں


سبودھ لال ساقی

No comments:

Post a Comment