Sunday, 2 May 2021

جان کر اس سے ہار جاتے ہیں

 جان کر اُس سے ہار جاتے ہیں

اور، پھر قہقہے لگاتے ہیں

پھر تِری سمت لوٹ آتے ہیں

خواہ ہم جس طرف بھی جاتے ہیں

ہم سے کیسے کرے کا یار گریز

ہم تِرے راستے میں آتے ہیں

اک ذرا سی زمین پر ہیں اور

آسمانوں سے دل لگاتے ہیں

کام کوئی نہیں سو مٹی پر

بیٹھ کر دائرے بناتے ہیں

کارِ دنیا میں رہتے ہیں مصروف

اپنی دیوانگی چھپاتے ہیں

دل سے غصہ نکالتے نہیں کیوں

کیوں یہ بارِ گراں اٹھاتے ہیں

کون ہم سے مقابلہ کرے گا

ہم ہوا میں محل بناتے ہیں


محمد حنیف

No comments:

Post a Comment