محبت کی کہانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے
ہماری بدگمانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے
ارے تم کس لیے یہ پھول سے خوشبو چراتے ہو
محبت کی نشانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے
ہمارے بخت میں لکھا ہوا ہی جب اندھیرا ہے
ہماری زندگانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے
مخالف سمت تم کشتی بنا کر بیٹھ جاتے ہو
یہ دریا کی روانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے
محبت کم سِنی کا کھیل ہے کیسے بتاؤں میں
بڑھاپے میں جوانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے
زہرا بتول
No comments:
Post a Comment