Monday, 3 May 2021

محبت کی کہانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے

 محبت کی کہانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے

ہماری بدگمانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے

ارے تم کس لیے یہ پھول سے خوشبو چراتے ہو

محبت کی نشانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے

ہمارے بخت میں لکھا ہوا ہی جب اندھیرا ہے

ہماری زندگانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے

مخالف سمت تم کشتی بنا کر بیٹھ جاتے ہو

یہ دریا کی روانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے

محبت کم سِنی کا کھیل ہے کیسے بتاؤں میں

بڑھاپے میں جوانی اب کہاں تبدیل ہوتی ہے


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment