مجھے جانا وہاں سے آگے ہے
اک دُھندلکا جہاں سے آگے ہے
یہ زمیں تو ہے میرے قدموں میں
راستہ آسماں سے آگے ہے
جسے پیچھے سمجھ رہا تھا میں
میرے وہم و گماں سے آگے ہے
اک سکوں بخش گوشہِ عزلت
کوچۂ رہ زناں سے آگے ہے
چل تو پڑتا مگر نہیں معلوم
کوئی منزل کہاں سے آگے ہے
محمد حنیف
No comments:
Post a Comment