Sunday, 9 May 2021

دل نے پھر چاہا اجالے کا سمندر ہونا

 دل نے پھر چاہا اُجالے کا سمندر ہونا

پھر اماوس کو مِلا میرا مقدر ہونا

دوستو میں تو نہ مانوں گا وہ ہے خشک مزاج

اس نے آنکھوں کو سِکھایا ہے مِری تر ہونا

آج سنتے ہیں وہ مائل بہ کرم آئے گا

اے مِری روح مِرے جسم کے اندر ہونا

میرے ہونٹوں پہ جمی پیاس گواہی دے گی

میں نے قطرہ کو سکھایا تھا سمندر ہونا

مجھ سے اس بار ملو گے تو سمجھ جاؤ گے

کیسا ہوتا ہے کسی شخص کا پتھر ہونا


طفیل چترویدی

No comments:

Post a Comment