نہ دکھ نہ درد کے ماروں کی بات کرتے ہیں
عجیب لوگ ہیں تاروں کی بات کرتے ہیں
خزاں رسیدہ سی بکھری ہے زندگی اپنی
اور اس پہ آپ بہاروں کی بات کرتے ہیں
پرانے دور کی شہزادی کی کہانی میں
وہ کوہِ قاف کے غاروں کی بات کرتے ہیں
تمام عمر گزاری ہے نفع میں پھر بھی
تمام عمر خساروں کی بات کرتے ہیں
یہاں تو بھائی سے بھائی کی ہی نہیں بنتی
اور ایک آپ ہیں یاروں کی بات کرتے ہیں
پھنسا کے بیچ سمندر میں لوگ کہتے ہیں
کہ آجا یار کناروں کی بات کرتے ہیں
ارم تو خود میں سمیٹے ہے چاند کی صفتیں
وہ نا شناس ستاروں کی بات کرتے ہیں
ارم شفیق
No comments:
Post a Comment