Sunday, 9 May 2021

نہ دکھ نہ درد کے ماروں کی بات کرتے ہیں

 نہ دکھ نہ درد کے ماروں کی بات کرتے ہیں

عجیب لوگ ہیں تاروں کی بات کرتے ہیں

خزاں رسیدہ سی بکھری ہے زندگی اپنی

اور اس پہ آپ بہاروں کی بات کرتے ہیں

پرانے دور کی شہزادی کی کہانی میں

وہ کوہِ قاف کے غاروں کی بات کرتے ہیں

تمام عمر گزاری ہے نفع میں پھر بھی

تمام عمر خساروں کی بات کرتے ہیں

یہاں تو بھائی سے بھائی کی ہی نہیں بنتی

اور ایک آپ ہیں یاروں کی بات کرتے ہیں

پھنسا کے بیچ سمندر میں لوگ کہتے ہیں

کہ آجا یار کناروں کی بات کرتے ہیں

ارم تو خود میں سمیٹے ہے چاند کی صفتیں

وہ نا شناس ستاروں کی بات کرتے ہیں


ارم شفیق

No comments:

Post a Comment