Sunday, 9 May 2021

اس کی جھوٹی قسموں کا اور باتوں کا

 اس کی جھوٹی قسموں کا اور باتوں کا

پھر سے لوٹ کے آیا موسم یادوں کا

ہر دم میرا دھیان تمہی پر ہوتا ہے

مجھ کو کیا معلوم تمہاری چیزوں کا

اک نوٹس پر کمرا خالی کرتے ہیں

کچھ دن میں دل بھر جاتا ہے لڑکوں کا

لاکھ دعائیں لکھ رکھی ہیں چوکھٹ پر

باہر اک انبار لگا ہے دھوکوں کا

پہلے جیسی بھیڑ نہیں اس کوٹھے پر

پہلے جیسا حال نہیں بازاروں کا

اس گھر کی روشن دیواروں کے پیچھے

دفتر ہے اک اُلٹے سیدھے کاموں کا

گانا سنتے سنتے سو جاتی ہوں میں

اور کوئی معمول نہیں ہے راتوں کا


زہرا قرار

زہرہ قرار

No comments:

Post a Comment