اس کی جھوٹی قسموں کا اور باتوں کا
پھر سے لوٹ کے آیا موسم یادوں کا
ہر دم میرا دھیان تمہی پر ہوتا ہے
مجھ کو کیا معلوم تمہاری چیزوں کا
اک نوٹس پر کمرا خالی کرتے ہیں
کچھ دن میں دل بھر جاتا ہے لڑکوں کا
لاکھ دعائیں لکھ رکھی ہیں چوکھٹ پر
باہر اک انبار لگا ہے دھوکوں کا
پہلے جیسی بھیڑ نہیں اس کوٹھے پر
پہلے جیسا حال نہیں بازاروں کا
اس گھر کی روشن دیواروں کے پیچھے
دفتر ہے اک اُلٹے سیدھے کاموں کا
گانا سنتے سنتے سو جاتی ہوں میں
اور کوئی معمول نہیں ہے راتوں کا
زہرا قرار
زہرہ قرار
No comments:
Post a Comment