اس کو آنا ہے اور بے نقاب آئے گا
جب تمنا سے میری شباب آئے گا
ظلمتوں کے پجاری کہاں جائیں گے
جب چمکتا ہوا آفتاب آئے گا
آج کل مجھ سے وہ بات کرتا نہیں
اور اب کیا زمانہ خراب آئے گا
رنگ لائے گا جب خون مظلوم کا
وہ زمانہ بھی جلدی جناب آئے گا
ظلم کے تانے بانے بکھر جائیں گے
وقت لینے جب اپنا حساب آئے گا
مالکِ مے کدہ، رِند ہو جائیں گے
مے کدے میں نیا انقلاب آئے گا
ساتھ اس کے سوا کوئی دے گا نہیں
جب صبا کا زمانہ خراب آئے گا
شانتی صبا
No comments:
Post a Comment