Sunday, 6 December 2020

اس کو آنا ہے اور بے نقاب آئے گا

 اس کو آنا ہے اور بے نقاب آئے گا

جب تمنا سے میری شباب آئے گا

ظلمتوں کے پجاری کہاں جائیں گے

جب چمکتا ہوا آفتاب آئے گا

آج کل مجھ سے وہ بات کرتا نہیں

اور اب کیا زمانہ خراب آئے گا

رنگ لائے گا جب خون مظلوم کا

وہ زمانہ بھی جلدی جناب آئے گا

ظلم کے تانے بانے بکھر جائیں گے

وقت لینے جب اپنا حساب آئے گا

مالکِ مے کدہ، رِند ہو جائیں گے

مے کدے میں نیا انقلاب آئے گا

ساتھ اس کے سوا کوئی دے گا نہیں

جب صبا کا زمانہ خراب آئے گا


شانتی صبا

No comments:

Post a Comment