دہک رہا ہے الاؤ دل میں بجا رہا ہے رباب کوئی
ہماری آنکھوں کی چلمنوں تک بھٹکتا آیا ہے خواب کوئی
وہ ہیں یقیناً میرے مقابل، شناسا آنکھیں، کتابی چہرہ
صدا یہ کیوں آرہی ہے دل سے، یہ ہے مبادا سراب کوئی
گلے ہیں شکوے ہیں الجھنیں ہیں، یہی محبت کے سلسلے ہیں
ہو جس سے دل شاد، روح تاباں نہیں ہے ایسا عذاب کوئی
یہ زیست ایسے گزررہی ہے، کتاب پڑھنا ہی مشغلہ ہے
جو میری تنہائی کا ہو مداوا، نہیں ہے ایسا نصاب کوئی
سلمیٰ سید
No comments:
Post a Comment