Sunday, 6 December 2020

دہک رہا ہے الاؤ دل میں بجا رہا ہے رباب کوئی

 دہک رہا ہے الاؤ دل میں بجا رہا ہے رباب کوئی

ہماری آنکھوں کی چلمنوں تک بھٹکتا آیا ہے خواب کوئی

وہ ہیں یقیناً میرے مقابل، شناسا آنکھیں، کتابی چہرہ

صدا یہ کیوں آرہی ہے دل سے، یہ ہے مبادا سراب کوئی

گلے ہیں شکوے ہیں الجھنیں ہیں، یہی محبت کے سلسلے ہیں

ہو جس سے دل شاد، روح تاباں نہیں ہے ایسا عذاب کوئی

یہ زیست ایسے گزررہی ہے، کتاب پڑھنا ہی مشغلہ ہے

جو میری تنہائی کا ہو مداوا، نہیں ہے ایسا نصاب کوئی


سلمیٰ سید

No comments:

Post a Comment